29 جون 2012 - 19:30

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے چین اور سنگا پور کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے جن کو ایران کے خلاف امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں سے مستثنی قرار دیا گيا ہے۔

ابنا:چین اور سنگا پور کوایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عمل درآمد سے صرف ایک دن پہلے مستثنی قراردیا گيا ہے۔امریکی حکام کے مطابق یہ رعایت ان ممالک کو دی گئی ہے جنہوں نے ایران سے تیل درآمد میں کمی کی ہے۔اگرچہ اس فیصلے کے دلائل کے بارے میں یعنی ایران سے تیل خریداری میں کمی کےسلسلے میں اور کم سے کم چین کے بارے میں بہت سی باتیں ہیں لیکن ایک بات مسلم ہے اور وہ یہ کہ اس فیصلے کا ایک سبب ، اس سے قطع نظر کہ چین اپنی تیل کی بیس فی صد سے زیادہ درآمد کے لئے ایران پر منحصر ہے ، ایٹمی ٹیکنالوجی سے متعلق ایرانی حقوق اور ایران کے خلاف پابندیوں میں اضافے کے بارے میں چین اور امریکہ کے حکام کے درمیان اختلاف ہوسکتا ہے۔ادھر امریکی حکام نے کہا ہے کہ چین نے ایران سے تیل کی درآمد میں کمی کرکے چین کو پابندیوں سے مستثنی کرنے کے لئےامریکہ کو قائل کرلیا ہے لیکن اس مسئلے کا ایک اور پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ امریکہ موجودہ حالات میں چین پر زیادہ دباؤ نہیں ڈال سکتا اور کچھ حدتک ہی بیجنگ کو اپنی پیروی کا قائل کرسکتا ہے۔اسی لئے اس مسئلے کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ اس مسئلے کی ظاہری صورت حال کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔دراصل یہ وہی پالیسی ہے جس پر ہندوستان ، جاپان اور جنوبی کوریا کے بارے میں بھی عمل کیا گيا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس حقیقت کے پیش نظر کہ تیرہ فی صد سے زیادہ امریکہ کا زرمبادلہ چین کے اختیار میں ہے چین امریکہ کو یہ اجازت نہیں دے گا کہ وہ اپنے مالی نظام سے چین کو آسانی سے الگ کرسکے۔ اس طرح کے اقدام سے امریکی اقتصاد کو سب سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔اس بات سے قطع نظر کہ کن مقاصد کے تحت چین کو پابندیوں سے مستثنی قراردیا گيا ہے ، پابندیوں کے سلسلے میں یہ حقیقت ہے کہ ایران کے خلاف پابندیاں بنیادی طور پر غیرقانونی اور بین الاقوامی جواز سے عاری ہیں۔امریکی پیروی میں یورپی یونین کے فیصلے کے مطابق ایران سے تیل درآمد پر پابندی یکم جولائی سے قابل عمل ہوگي۔اس سلسلے میں عالمی برادری کے لئے جو چیز قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ ایران کی علمی ترقی کو اور مغرب کی تسلط پسندی کے مقابل مزاحمت میں ایران کو نمونۂ عمل بننے سے روکنے کی کوشش میں ہے۔اسی بنا پر پابندیوں کی پالیسی ایران کے خلاف ایک سیاسی حربہ اور دباؤ کے طور پر استعمال کی جارہی ہے البتہ امریکہ اس عمل میں اپنے داخلی قوانین کو عالمی آزاد تجارت پر مسلط کررہا ہے اور رائے عامہ کے دباؤ کو کم کرنے کی غرض سے جاپان ، کوریا ، ہندوستان اور چین جیسے ممالک کو پابندیوں سے مستثنی قراردے رہا ہے جبکہ بحث ایران کے خلاف امریکہ کے یکطرفہ اقدامات کی ماہیت پر ہے۔بہر حال ، یہ سوچنا کہ پابندیوں سے صرف ایران کو نقصان پہنچے گا غط ہے کیونکہ ایران پابندیوں سے مقابلہ اور ان کا جواب دینے کے طریقے جانتا ہے اور وہ ایسا ہرگز نہیں ہونے دے گا کہ جس طرح یورپی یونین اور امریکہ چاہتے ہیں پابندیاں صرف ایران کو ہی متاثر کریں۔تجربہ سے بھی پتہ چلتا ہے کہ پابندیوں سے ایران کو پہلے بھی نقصان نہیں پہنچا ہے اور نہ ہی اب پہنچے گا۔........

/169